ڈئیر Gen Z and Gen Alpha
آج 8 اکتوبر ہے، اور پتہ ہے اس دن کیا ہوا تھا؟
نہیں؟ چلو میں بتاتا ہوں۔ ناچ گانے کی ریلز، شارٹس اور ٹک ٹاک دیکھنے سے کچھ لمحات نکال کر اس کو غور سے پڑھو۔۔۔۔ کبھی سنا تو ہوگا کہ ایک دن پاکستان اور آزاد کشمیر میںبڑا زلزلہ آیا تھا۔۔۔۔ آج سے ٹھیک 21 سال پہلے ایک ایسی تباہی کا دن تھا جس کو کوئی چاہ کر بھی بھول نہیں سکتا۔
آپ میں سے تو بہت سے لوگ اُس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، اور جو تھے وہ اتنے چھوٹے تھے کہ شاید صحن میں گھٹنوں کے بل چلنا سیکھ رہے تھے لیکن یہ کہانی آپ کے لیے سننا بہت ضروری ہے۔ 8 اکتوبر 2005 کی وہ ہفتے کی صبح ایک عام سی خوشگوار صبح تھی، بچے اسکولوں میں تھے اور لوگ اپنے کاموں میں مصروف۔ لیکن صبح کے 8:50 پر اچانک زمین ایسے لرزنا شروع ہوئی جیسے سب کچھ ختم ہونے والا ہو۔
میں اُس وقت اسلام آباد کے سیکٹر I-8 میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر تھا۔ وہ سیکنڈز زندگی کے طویل ترین سیکنڈز تھے جب ہر طرف سے صرف ایک ہی آواز آ رہی تھی: "زلزلہ ہے، باہر بھاگو!"
اُس دور میں آج کی طرح سوشل میڈیا نہیں تھا، اسی لیے خبریں پہنچنے میں تھوڑا وقت لگا۔ ٹی وی اسکرینوں پر سب سے پہلے اسلام آباد کے سیکٹر F-10 سے دل دہلا دینے والی خبر آئی جہاں مارگلہ ٹاورز نامی نو منزلہ لگژری اپارٹمنٹ کمپلیکس کا ایک پورا حصہ (تقریباً ڈیڑھ سے دو بلاکس) شدید جھٹکوں کی وجہ سے زمین بوس ہو چکا تھا۔ پورے اسلام آباد میں گرنے والی یہ واحد رہائشی ہائی رائز عمارت تھی، جس کے ملبے تلے دب کر 72 سے 78 لوگ جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے انتھک محنت کر کے 90 سے زائد افراد کو زندہ نکالا۔ دل دہل گیا، لیکن اصل ہولناک خبریں تو ابھی شمال کے پہاڑوں سے آنا باقی تھیں۔
کچھ ہی دیر میں آسمان ہیلی کاپٹرز کے شور سے گونجنے لگا جو کشمیر کی طرف اڑ رہے تھے۔ نیو رپورٹس کے مطابق پاک فوج نے محض 20 منٹ کے اندر ہیلی کاپٹرز اور میڈیکل سپورٹ کے ساتھ ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔ جب آہستہ آہستہ رابطے بحال ہوئے تو معلوم ہوا کہ 7.6 کی شدت کے اس زلزلے کا مرکز مظفرآباد تھا اور آزاد کشمیر سمیت پورے مضافات میں ملبے کے ڈھیر لگ چکے تھے۔
پاک فوج کے 50 ہزار سے زائد جوانوں نے فوری طور پر پہنچ کر جہاں ملبے سے لوگوں کو نکالا، وہیں لینڈ سلائیڈنگ سے بند پہاڑی راستوں اور کمیونیکیشن لائنز کو ریکارڈ وقت میں بحال کیا۔ جیسے ہی ریسکیو کی کوششیں ایک بڑے پیمانے کے طویل مدتی امدادی اور بحالی کے مشن میں تبدیل ہوئیں، تو اس میں حصہ لینے والے فعال اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر 75,000 سے زائد فوجی جوانوں تک پہنچ گئی۔
اُس ایک دن نے ہنستے بستے شہروں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا:
• 86,000 سے زائد معصوم جانیں منٹوں میں خاک تلے دب گئیں۔
• 1 لاکھ سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے۔
• 40 لاکھ لوگ اپنے ہی وطن میں بے گھر ہو گئے، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب پہاڑوں پر شدید سردی کا موسم سر پر تھا۔
• بالاکوٹ اس حد تک تباہ ہوا تھا کہ بی بی سی (BBC) اور برطانوی انسائیکلوپیڈیا (Britannica) جیسے عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس خوبصورت شہر کا تقریباً 90 فیصد حصہ مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا.
اگلے دن جب اخبارات میں ملبے تلے دبے اسکول کے بچوں اور بے بس والدین کی تصویریں چھپیں، تو وہ مناظر اتنے ہولناک تھے کہ جن لوگوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ آج 21 سال بعد بھی اس دن کو یاد کر کے کانپ اٹھتے ہیں۔
اک قیامت تھی جو گزر بھی گئی
دل مگر اب تک کانپ جاتا ہے
اُس دور میں آج کی طرح نہ تو سوشل میڈیا تھا اور نہ ہی ہر ہاتھ میں اسمارٹ فون، بلکہ ملک کی چند فیصد آبادی کے پاس ہی پرانے بٹنوں والے موبائل فون تھے اور زیادہ تر انحصار پی ٹی سی ایل لینڈ لائن پر تھا۔ زلزلے کے فوراً بعد نیٹ ورک جام ہو گئے، جبکہ کشمیر اور بالاکوٹ میں ٹاورز اور ایکسچینجز ملبے کا ڈھیر بننے سے کمیونیکیشن کا مکمل بلیک آؤٹ ہو گیا اور لوگ اپنوں کی خیریت کے لیے تڑپتے رہ گئے۔ تباہی اتنی بڑی تھی کہ مظفرآباد اور بالاکوٹ جیسے بڑے شہروں میں بھی پہلی باقاعدہ امداد پہنچتے پہنچتے 3 سے 4 دن (11 یا 12 اکتوبر) لگ گئے، کیونکہ بند راستوں اور شدید بارش نے آفت کو بڑھا دیا تھا۔ پہاڑوں پر آباد دور دراز دیہاتوں کا حال تو اس سے بھی بدتر تھا، جہاں لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں غائب تھیں، نہ بجلی تھی اور نہ سگنل۔ وہاں کے لاچار لوگوں تک کھانا، خیمے اور دوائیاں پہنچنے میں 10 سے 14 دن کا طویل وقت لگ گیا، جہاں شدید ٹھنڈ میں لوگ کھلے آسمان تلے تڑپتے رہے اور امداد کا واحد ذریعہ صرف پاک فوج یا غیر ملکی ہیلی کاپٹرز تھے جو فضا سے سامان گراتے یا ملٹری کے سیٹلائٹ فونز سے ہنگامی رابطے کرتے تھے۔
آئیں آج ان تمام معصوم روحوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں جو اس ہولناک دن ہم سے بچھڑ گئیں۔

No comments:
Post a Comment